Welcome to Ajareresalat.net

Register now to gain access to all of our features. Once registered and logged in, you will be able to contribute to this site by submitting your own content or replying to existing content. You'll be able to customize your profile, receive reputation points as a reward for submitting content, while also communicating with other members via your own private inbox, plus much more!

This message will be removed once you have signed in.

Ali Haider

Administrators
  • Content count

    86
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    3

Community Reputation

4 Neutral

About Ali Haider

  • Rank
    Advanced Member

Recent Profile Visitors

1,018 profile views
  1. The deadly drone strike was conducted in al-Saeed area of Shabwah Province on Sunday afternoon. The casualties came after the aerial attack hit a vehicle carrying four people, suspected to be al-Qaeda members. The vehicle was completely destroyed in the strike, which also hit three civilians who happened to be passing nearby. The US has intensified its military engagement in Yemen in recent weeks. On March 2, Washington launched a series of strikes against alleged al-Qaeda targets in Yemen. The military attacks focused on the southern provinces of Abyan and Shabwah as well as Bayda, farther to the north. The military operations were the first since a botched ground raid in January that killed women and children as well as an American commando. The drone strikes in Yemen continue alongside the Saudi military aggression against the impoverished conflict-ridden country. Saudi Arabia has been incessantly pounding Yemen since March 2015 in an unsuccessful attempt to reinstate a former government. The aerial attacks, initiated by former US President George W. Bush in 2004, were escalated during former US president Barack Obama’s terms in office. The attacks had been carried out in Pakistan, Yemen, Somalia, Libya and elsewhere. US President Donald Trump has recently given the CIA new authority to launch drone strikes across various parts of the world in Washington’s so-called war on terror. The US claims the airstrikes target members of terrorist groups such as al-Qaeda and other militants, but according to local officials and witnesses, civilians have also been the victims of the attacks in many cases.
  2. طلاق طلاق ایک فقہی اور قانونی اصطلاح ہے جس کے معنی خاص شرائط کے ساتھ میاں بیوی کا ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنے کے ہیں۔ اسلام میں طلاق جائز ہے؛ لیکن ان کاموں میں سے ایک ہے جس کی نہایت مذمت کی گئی ہے۔ قرآن میں اسی نام سے ایک سورہ بھی موجود ہے۔طلاق کی دو قسم ہیں :طلاق رِجعی: جس میں مخصوص شرائط کے ساتھ شوہر نکاح پڑھے بغیر بیوی کو دوبارہ اپنی زوجیت میں لوٹا سکتا ہے۔طلاق بائِن: جس میں شوہر کیلئے ایسا کوئی حق نہیں ہے۔ طلاق خُلع اور مُبارات، طلاق بائن کے اقسام میں سے ہیں۔طلاق کا حق مرد کے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن خاص شرائط کے ساتھ حاکم شرع مرد کو طلاق پر مجبور کر سکتا ہے۔ موجودہ دور میں بعض مواقع عقد کے وقت شوہر، بیوی کو وکالت دے دیتا ہے تا کہ بیوی خاص شرائط کے ساتھ اپنے آپ کو مرد سے طلاق دلوا سکیں۔[فہرست] 1 تعریف2 طلاق تاریخ کے آئینے میں3 اسلام میں طلاق کی حیثیت4 طلاق کے شرائط اور احکام5 طلاق کے اقسام5.1 طلاق رجعی5.2 طلاق بائن5.3 طلاق خلع5.4 طلاق مبارات6 عدّت طلاق7 طلاق کا اختیار8 حوالہ جات9 منابعتعریفطلاق لغت میں علیحدگی، آزاد کرنا، ترک کرنا، مفارقت اور جدایی کے معنی میں آتا ہے۔[1] دینی اصطلاح میں خاص شرائط کی رعایت کرتے ہوئے مخصوص صیغہ کے ساتھ میاں بیوی کا ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنے کو طلاق کہا جاتا ہے۔[2] طلاق ایقاعات میں سے ہے عقود میں سے نہیں ہے بنابراین ایک شخص (مرد) کی جانب سے انجام پاتا ہے اور عورت کی جانب سے قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔موجودہ دور میں مختلف ممالک میں طلاق جاری کرنے کے مختلف طریقے ہیں لیکن اکثر ممالک میں طلاق جاری کرنے کے لئے کسی عدالت یا قانونی ادارے کی تائید ضروری ہوتی ہے۔ مختلف مذاہب میں طلاق کے حوالے سے مختلف نطقہ نظر پائے جاتے ہیں۔طلاق تاریخ کے آئینے میںطلاق پرانے زمانے سے مختلف ممالک منجملہ یونان، ایران، مصر اور چین میں رائج تھی۔ مسیحیت کاتولیک میں طلاق مطلقا ممنوع ہے اور صرف میاں اور بیوی کا جداگانہ زندگی گزارنا جائز ہے اس صورت میں ان دونوں میں سے ہر ایک کو دوبارہ کسی سے شادی کرنے کا حق نہیں ہے۔ جبکہ مذہب ارتدوکس طلاق کو صرف مرد اور عورت کا زنا انجام دینے کی صورت میں جائز سمجھتے ہیں اس صورت میں بھی یہ دونوں کسی اور سے شادی کرنے کا حق نہیں رکھتے ہیں۔[3] لیکن زمانہ گزرنے کے ساتھ مسحیی ممالک اپنے قوانین میں میاں اور بیوی کو طلاق کا حق دینے پر مجبور ہوئے۔اسلام میں طلاق کی حیثیتاسلام میں طلاق کو منفورترین حلال کا نام دیا گیا ہے،[4] جس سے عرش الہی کو زلزلہ آتا ہے۔[5] احادیث میں ۱۲۰۰ سے زائد حدیث طلاق اور اس کے احکام سے متعلق وارد ہوئی ہیں۔طلاق کا لفظ ۱۴ دفعہ قرآن میں استعمال ہوا ہے اور ان میں سے اکثر ان موارد کی طرف اشاہ ہے جن میں طلاق کا صیغہ جاری ہوا ہو اور عورت عدّت گزار رہی ہو اور مستقیم یا غیر مستقیم طور پر انہیں مشترک زندگی کی طرف لوٹ آنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر سورہ بقرہ میں 12 دفعہ "معروف" کا لفظ تکرار ہوا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا اور ان کے حقوق سے سوء استفادہ نہ کرنا اور ایک محترمانہ اور اچها طریقہ اختیار کرنے کی کتنی اہمیت ہے۔سورہ طلاق میں طلاق کے احکام کے علاوہ عدّت طلاق، مطلقہ عورتوں کے نفقہ کا مسألہ، رضاع کے احکام اور شیرخوار بچوں اور دودھ پلانے والی عورتوں کے حقوق بھی مطرح ہوئے ہیں۔ اسی طرح طلاق رجعی کے دوران مطلقہ بیوی کو گھر سے نکال دینے سے منع بھی کی گئی ہے۔قرآن سورہ نساء میں مردوں کو اپنی بیویوں کو طلاق نہ دینے کی سفارش کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک ددسرے سے صلح صفائی کو اچھا اقدام قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بعض اوقات تمہاری بھلائی ان بیویوں یا شوہروں میں رکھی ہوتی ہے جنہیں تم پسند نہیں کرتے ہو۔ [6] میاں بیوی کے درمیان جگھڑے فساد کی صورت میں بھی قرآن کریم نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ میاں اور بیوی کے خاندان سے ایک ایک داور مل بیٹھ کر مشورت کریں اور مشترک زندگی کو جاری رکھنے کی کوئی نہ کوئی صورت پیدا کرنے کی کوشش کریں۔[7]آخر میں خداوندعالم میاں بیوی دونوں کو طلاق کے بعد بھی اپنے غیبی خزانوں سے بے نیاز کرنے کا وعدّت دیتے ہیں۔[8]طلاق کے شرائط اور احکامطلاق کے چار عمدہ رکن ہیں جو درج ذیل ہیں: ۱- طلاق دینے والا ۲- طلاق لینے والی ۳- طلاق کا صیغہ ۴- گواہ رکھنا[9]طلاق دینے والا درج ذیل چار شرائط کا حامل ہونا ضروری ہے:بالغ ہو؛عاقل ہو؛اپنی اختیار سے طلاق دے کسی نے مجبور نہ کیا ہو؛کسی کو وکالت دیتے وقت یا خود صیغہ طلاق جاری کرتے وقت، حقیقتا طلاق دینے کا قصد رکھتا ہو؛[10]مطلَّقہ (وہ عورت جسے طلاق دی جا رہی ہو) میں بھی تین شرط معتبر ہیں :طلاق دیتے وقت عورت حیض اور نفاس سے پاک ہو وگرنہ طلاق باطل ہے۔ یہ شرط یائسہ اور حاملہ اسی طرح وہ لڑکی جو ابھی حیض دیکھنے کی عمر میں نہیں پہنچی ہو، میں ساقط ہے۔حیض اور نفاس سے پاکی (طُہر) کے وہ ایام جس میں طلاق جاری ہو رہی ہو، میں شوہر نے بیوی کے ساتھ ہمبستری نہ کی ہو۔اگر طلاق دینے والا کئی بیویاں رکھتا ہو تو جسے طلاق دی جارہی ہے اسے معین کرنا ضرروی ہے۔[11]صیغہ طلاق اور گواہ رکھنے میں بھی کئی شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے :طلاق کا مخصوص صیغہ "هی طالِقٌ یا فُلانَة طالِقٌ یا اَنتِ طالِقٌ"، عربی میں پڑھنا ضروری ہے مگر یہ کہ کوئی بات نہ کر سکتا ہو تو اس سے یہ شرط ساقط ہو جاتا ہے۔[12]گواہ، دو یا دو سے زیادہ عادل مرد کا ہونا ضروری ہے۔[13][14]طلاق کے اقسامطلاق، رجوع کر سکنے اور رجوع نہ کر سکنے کے لحاظ سے: بائن اور رجعی میں تقسمی ہوتی ہےطلاق رجعیطلاق رِجعی، اس طلاق کو کہا جاتا ہے جس میں مرد عدّت کے دوران دوبارہ نکاح کئے بغیر مطلقہ عورت (سابقہ بیوی) کو اپنی زوجیت میں لانے کا حق رکھتا ہے۔ درج ذیل اقسام کے علاوہ باقی صورتوں میں طلاق رجعی ہو گا۔طلاق بائنطلاق بائن میں مرد عدّت کے دوران اپنی بیوی سے رجوع نہیں کر سکتا اس کی پانچ قسمیں ہیں :اس لڑکی کی طلاق جس کی ابھی 9 سال کامل نہ ہوئی ہو۔اس عورت کی طلاق جو یائسہ ہو چکی ہو۔اس عورت کی طلاق جس سے نکاح کے بعد شوہر نے ہمبستری نہ کی ہو۔اس عورت کی طلاق جسے تین بار طلاق دی گئی ہو۔اس عورت کی طلاق جسے "طلاق خُلع یا طلاق مُبارات دی گئی ہو۔اگر بیوی شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے پر راضی نہ ہو تو شوہر سے اپنی جان چھڑانے کیلئے کچھ مال دی جاتی ہے تاکہ اس کا شوہر اس کے بدلے اسے طلاق دے دے۔ اس صورت میں طلاق کی دو قسم ہے:طلاق خُلعطلاق مُباراتطلاق خلعطلاق خُلع سے مراد یہ ہے کہ بیوی اپنے شوہر سے نفرت ہو اور اس کے ساتھ زندگی گزارے پر راضی نہیں ہے یوں شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کیلئے شوہر کو کچھ مقدار میں مال دے دیتی ہے تاکہ شوہر اس کے بدلے اسے طلاق دے دے۔طلاق خلع متحقق ہونے کیلئے درج ذیل شرایط کا ہونا ضروری ہے :بیوی کو شوہر سے نفرت ہو؛کچھ مقدار میں مال بعنوان فدیہ دی جائے، ممکن ہے فدیہ یک مقدار بیوی کے مہر کے برابر ہو یا اس سے کمتر یا بیشتر۔طلاق اگرچہ ایقاع ہے اور اسے کے واقع ہونے کیلئے بیوی کا قبول کرنا شرط نہیں ہے لیکن جب بھی طلاق، خلع کی صورت میں واقع ہو تو چونکہ اس میں طلاق عورت کی طرف سے کچھ مقدرا میں مال کے عوض واقع ہوتی ہے، عقد کی طرح ایجاب و قبول کی ضرورت پڑتی ہے یعنی میاں اور بیوی دونوں کے توافق سے طلاق خلغ متحقق ہوتی ہے۔اس قسم کی طلاق میں اگر بیوی پشیمان ہو جائے تو فدیہ کی رقم واپس لے سکتی ہے یوں طلاق بائن، طلاق رجعی میں تبدل ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں شوہر کو بھی عدّت کے دوران دوباہ رجوع کرنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔ طلاق واقع ہونے کے بعد شوہر "فدیہ" کا مالک بن جاتا ہے اور اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے، عورت صرف عدّت کے دوران "فدیہ" کو واپس لینے کا حق رکھتی ہے اس صورت میں بھی عورت کو فورا رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ مرد طلاق رجعی میں رجوع کرنے کے اپنے حق سے استفادہ کر سکے۔طلاق مباراتطلاق مُبارات میں نفرت دونوں طرف سے ہو یعنی میاں بیوی دونوں کو ایک دوسرے سے نفرت ہو اس صورت میں فدیہ کی مقدار مہر سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔طلاق مبارات بھی طلاق خلع کی طرح دو طرفہ ہے یعنی صرف مرد طلاق مبارات جاری کرے تو کافی نہیں ہے بلکہ بیوی کی طرف سے بھی اس پر رضایت کا اظہار کرنا ضروری ہے۔عدّت طلاقاصل مضمون: عدّتطلاق کا صیغہ جاری ہونے کے بعد عورت ایک مدت تک دوسری شادی نہیں کر سکتی اس مدت کو عدّت کہا جاتا ہے۔ یہ مدت مختلف حالات میں مختلف ہو سکتی ہے۔ نیز طلاق رجعی میں مرد عدّت تمام ہونے تک اپنی بیوی کو گھر سے نہیں نکال سکتا کرنا اور اس دوران مرد نکاح بغیر دوبارہ بیوی کی طرف رجوع کرکے اسے اپنی زوجیت میں لا سکتا ہے۔طلاق کا اختیارفقہ امامیہ میں طلاق دینے کا اختیار صرف اور صرف مرد کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اگرچہ بعض مواقع یہ قانون مردوں کی راجداری کا باعث بنتا ہے اور مرد مشترک زندگی میں اس کے ذریعے عورت پر سختیاں ایجاد کرتا ہے۔ عقد کے دوران اگر بیوی چاہے تو شوہر کو اس بات پر راضی کر سکتی ہے کہ خاص شرائط کے ساتھ عورت شوہر سے اپنے آپ کو طلاق دینے کا مطالبہ کرے اگر شوہر عقد کے ضمن میں اسے قبول کر لے تو معین شرائط کے ساتھ عورت شوہر سے طلاق کا تقاضا کر سکتی ہے۔ وہ شرائط درج ذیل ہیںشوہر چھ مہینے تک بیوی کا نفقہ (خرچہ) اور دیگر واجب حقوق ادا نہ کرے۔شوہر کا بیوی بچوں کے ساتھ غیر قابل تحمل بد سلوکی۔شوہر کسی ایسی غیر قابل علاج بیماری میں مبتلا ہو جائے جس سے بیوی کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوشوہر ایسے وقت میں دیوانہ ہو جائے جس میں نکاح فسخ کرنا ممکن نہ ہو۔شوہر کا کسی ایسے کام میں مشغول ہونا جو بیوی یا اس کے خاندان کی آبرو ریزی کا باعث ہو۔شوہر کو پانج سال سے زیادہ قید کی سزا سے محکوم ہونا۔شوہر کسی ایسی چیز کا عادی ہو جائے جس سے خاندانی بنیادوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو مثلا یہ کہ عادت کی وجہ سے بیکار ہو جائے اور گھریلو سامان وغیرہ بھیجنے پر مجبور ہ جائے۔شوہر کا بغیر کسی وجہ کے بیوی بچوں کو ترک کرنا یا چھ ماہ سے زیادہ کسی عذر موجہ کے غائب رہنا۔شوہر کسی بھی ایسی سزا کا مستحق ہونا جس سے بیوی کی آبرو خطره میں پڑے۔پانچ سال کے بعد بھی شوہر بچہ دار نہ ہو سکتا ہو۔شوہر کا طولانی مدت تک غائب رہنا یا اصلا اس کا کوئی پتہ نہ ملے۔شوہر کا بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا۔چنانچہ مرد نے عقد کے وقت طلاق کا حق بیوی کو دیا ہو تو بیوی بغیر کسی شرط کے بھی طلاق اور مہر کا تقاضا کر سکتی ہے۔حوالہ جات فرہنگ معاصر عربی-فارسی، ص۴۰۲. . جواہر الکلام، ج ۳۲، ص۲ بررسی حقوق زنان در مسالہ طلاق، ص۲۳-۲۰. رسولُ اللّہ(ص): ما أحَلَّ اللّہ ُ شیئا أبغَضَ إلَیہ مِن الطَّلاقِ(ترجمہ خداوندعالم نے طلاق سے زیادہ منفور شئ کو حلال نہیں فرمایا ہے۔) کنزالعمال ۲۷۸۷۱ روض الجنان ج۴ ص۷۸ نساء آیہ ۱۹. نساء آیہ ۳۵ نساء آیہ ۱۳۰. لمعۃ الدمشقیہ، ج ۲، ص۳۸۷. لمعۃ الدمشقیہ، ج ۲، ص۳۸۷. جواہر الکلام، ج ۳۲، ص۴ و ۵۶. جواہر الکلام، ج ۳۲، ص۴ و ۵۶. جواہر الکلام، ج ۳۲، ص۴ و ۵۶. تحریر الوسیلہ، ج ۲، ص۴۴۱.
  3. Version 1.0.0

    4 downloads

    اولاد ابو طالب ع پے لکھی جانے والی واحد کتاب جس میں مکمل امام اور ان کے بیٹوں کے اوپر لکھا گیا ہے، یہ کتاب ہر سید کے پاس ہونی اور اس کو پڑھنی چاہیے جسے ماہر نساب السید قمر عباس الاعرجی الہمدانی نے ترتیب دیا ہے کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں- 03349921302 سید خرم عباس نقوی اسلامآباد
  4. Mudraka-ul-Nisab - Urdu View File اولاد ابو طالب ع پے لکھی جانے والی واحد کتاب جس میں مکمل امام اور ان کے بیٹوں کے اوپر لکھا گیا ہے، یہ کتاب ہر سید کے پاس ہونی اور اس کو پڑھنی چاہیے جسے ماہر نساب السید قمر عباس الاعرجی الہمدانی نے ترتیب دیا ہے کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں- 03349921302 سید خرم عباس نقوی اسلامآباد Submitter Ali Haider Submitted 02/18/2017 Category Urdu  
  5. جنابِ سیدہ کی فریادفاطمہ زہرا علیہاالسلام فریاد کرنے لگیں، اے بابا، اے خدا کے رسول (ص)۔ عمر بن خطاب نے ان کو ہٹانے کیلئے الٹی تلوار ان کے پہلو پر ماری۔ سیدہؑ نے پھر فریاد کی ہائے میرے بابا، عمر بن خطاب نے کوڑا ان کے ہاتھ پر مارا۔ سیدہؑ نے پھر فریاد بلند کی۔ یا رسول اللہ (ص) آپ کے بعد ابوبکر و عمر نے کس قدر بُرا سلوک کیا ہے۔ جناب حضرت علیؑ نے دوڑ کر عمر بن خطاب کو گریبان سے پکڑا اور اٹھا کر زمین پر دے مارا۔ جس سے اس کی ناک اور گردن زخمی ہوئی۔ قتل کرنا ہی چاہتے تھے کہ آنحضرت (ص) کی وصیت یاد آگئی۔ جو آُپ نے جناب علیؑ کو صبر کرنے کی وصیت کی تھی۔ جناب حضرت علیؑ نے فرمایا، اے ابن ضحاک، اللہ تعالیٰ کی قسم جس نے محمد (ص) کو نبوت بخشی ہے۔ اگر خدا کا لکھا ہوا اور اگر رسول اللہ (ص) کا مجھ سے عہد نہ ہوتا تو تم دیکھ لیتے کہ میرے گھر میں گھس نہیں سکتے تھے۔ عمر ابن خطاب نے لوگوں کو آواز دی تو لوگ ان کی مدد کو اندر گھس آئے، جناب حضرت علیؑ نے اپنی تلوار کی طرف رخ کیا۔ لوگوں نے جناب حضرت علیؑ کو ہر طرف سے گھیر کر گلے میں کپڑا ڈال کر بے بس کردیا۔ یہ دیکھ کر دروازے کے قریب جناب فاطمہ علیہا السلام درمیان میں آگئیں۔ قنفذ ملعون نے ان کے بازو پر اتنے زور سے کوڑا مارا کہ وفات کے وقت بھی گومڑ موجود رہا۔ یہ لوگ جناب امیرؑ کو نکال کر ابو بکر بن قحافہ کے پاس لیگئے، عمر بن خطاب تلوار نکال کر حضرت علیؑ کے سر پر کھڑے ہوگئے وہاں پہلے سے خالد بن ولید، ابو عبیدہ جراح، ابو حذیفہ کا غلام سالم، معاذ بن ببل، مغیرہ بن شیبہ، بشیر بن سعد اور دوسرے تمام لوگ ابوبکر بن قحافہ کے پاس ہتھیار لگائے موجود تھے۔ سلیمؓ بن قیس ہلالی نے سلمانؓ فارسی سے پوچھا یہ کیا واقعہ ہے؟ کیا یہ لوگ واقعی جنابِ سیدہؑ کے گھر بلا اجازت داخل ہوگئے تھے؟۔ سلمانؓ فارسی نے کہا اللہ کی قسم وہ اندر چلے گئے تھے اور جنابِ سیدہؑ فرما رہی تھیں اے اللہ کے رسول (ص) آُپ کے بعد ابو بکر بن قحافہ و عمر نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا، ابھی تو آُپ کی آنکھیں بھی قبر میں بند نہ ہوئی تھیں، قنفذ نے جنابِ فاطمہ علیہاالسلام کو کوڑا مارنے کے بعد اتنی زور سے دھکا دیا تھا کہ گِر کر ان کی پسلی ٹوٹ گئی تھی اور جناب محسنؑ کا حمل ساقط ہوگیا تھا۔ وہ صاحب فراش ہوگئیں اور انہی زخموں کی وجہ سے شہید ہوئیں۔ ان پر اللہ کا درود و سلام ہو اور ان کے قاتلین پر اللہ کی لعنت ہو۔ کتاب سلیمؓ بن قیس ہلالی (متوفی ۷۰ ھ)
  6. where are you from ? sister
  7. امام رضا علیہ السلام کا ایک نوکر تھا جس کا نام تھا عبداللہ کافی دن مولا کی غلام میں رہا، وطن واپس جانے لگاتو مولا نے کہا 'کچھ مانگ' ؛کہنے لگا؛سرکار رزق کم ہے،مولا نے کہا:بڑھا دوں؟ کہنے لگا؛سرکارکی مرضی! مولا نے فرمایا دروازے پر میری جوتی پڑی ہے اٹھا کے لے جا'تیری سات نسلوں سے رزق ختم نہیں ہوگا' اس نے جوتی سر پہ رکھی چونکہ حجت کی تھی،اپنے وطن کی طرف روانہ ہوا، عین جنگل کے وسط میں پہنچا تو سامنے سے معروف نامی بندہ جس کے ہاتھوں میں 1000اونٹوں کی مہار تھی، جناب عبداللہ سے کہنے لگا 'جوتی سر پہ رکھی ہوئی ہے پہنتا کیوں نہیں؟'جناب عبداللہ نے فرمایا؛ اپنی ہو تو پہنوں نا، یہ جوتی مولارضا کی ہے، مولا کا نام سنا، معروف نے اسی وقت عبداللہ سے کہا 'بیچنی ہے؟' عبداللہ نے کہا؛ہاں اگر مناسب قیمت مل جائے تو' معروف نے 1000اونٹوں کی مہار عبداللہ کے ہاتھ میں دی اور کہا'تیری سات نسلوں کے لیے بہت ہے' عبداللہ نے سوچا کہ مولا نے بھی سات نسلوں کا کہا تھا، اس نے جوتی معروف کے حوالے کی اور 1000اونٹ مال سے بھرے ہوئے وطن کی طرف چل پڑا! معروف مولا کی جوتی سر پہ رکھ کر خراساں مولا کے دربار میں پہنچا، مولا نے فرمایا جوتی کہاں سے لی ہے؟ معروف نے کہا عبداللہ سے،مولا نے پوچھا اسے کیا دیا؟معروف نے کہا؛مال سے بھرے 100اونٹ! مولا نے کہا؛سودا کہاں ہوا؟ معروف نے کہا؛جنگل میں! مولا نے فرمایا؛تو نے لوٹ لیا غریب کو جنگل میں!ساری زندگی جوتی سر پہ رکھ کے مولا رضا کی دربانی کی معروف نے، حضرت علامہ آیت اللہ تقی محمد بہجت مرحوم،پورے ایران میں جتنی اس مجتہد کی تقلید تھی اتنی کسی کی نہیں تھی! استخارے کے بغیر سوال کا جواب نہیں دیتے تھے،ملاقات کاشرف ہوا، میں نے کہا ایک سوال کا جواب پوچھنا تھا ،فرمایا پوچھ! میں نے کہا : جب معروف نے ساری زندگی مولا رضا کی جوتی سر پہ رکھ کے دربانی کی، توکیا جب وہ نماز پڑھتا تھا تو جوتی سر پہ ہی ہوتی تھی؟ 'جھوٹے پہ اللہ کی لعنت' استخارہ آیا تو اس مجتہد نے کہا اب میرا جواب دینا واجب ہوگیا ہے، فرمانے لگے ہاں جب وہ نماز پڑھتا تھا تو مولا کی جوتی اس کے سر پہ ہی ہوتی تھی! قیام کیا'جوتی سر پہ' رقوع کے وقت'جوتی سر پہ' سجدے کے وقت'جوتی سر پہ' تشہد کے دوران 'جوتی سر پہ' بازاری چٹائی پر بیٹھ کر علی کا نمک کھا کر علی کو بھونکنے والے بازاری مولویو!! جس علی کے بیٹے کی جوتی نماز میں آسکتی ہے اس علی کا نام لوں تو نماز باطل۔۔۔۔۔ (شہید علامہ ناصر عباس، ملتان)
  8. Kia Raheel Sharif PMLN Main Shamil Hone Wale Hain Listen
  9. Faraz Ali Shah 2016
  10. S. Gulrez Turabi
  11. Zaheer Abbas 2016
  12. Syed Shujaat Abbas Oct 2016

Welcome To Shia Forum

At Ajareresalat.net, we have one unifying goal: to seek out the Truth. We welcome individuals from all walks of life and and there exists a diverse mix of cultures and ideologies amongst our members.

Mega Footer

You can configure this content inside your ACP under Customization > Edit > Mega Footer.