Welcome to Ajareresalat.net

Register now to gain access to all of our features. Once registered and logged in, you will be able to contribute to this site by submitting your own content or replying to existing content. You'll be able to customize your profile, receive reputation points as a reward for submitting content, while also communicating with other members via your own private inbox, plus much more!

This message will be removed once you have signed in.

YAALIMADADTORONTO

Moderators
  • Content count

    18
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

2 Neutral

1 Follower

About YAALIMADADTORONTO

  • Rank
    Member
  1. ﷽ ۔ باسمک العزیز ، باسمک العظیم یا علی العظیم اپنے رب کے اعلیٰ اسم کی تسبیح پڑھ ۔ سورہ اعلیٰ آیت 1 اپنے رب کے اسمِ عظیم کی تسبیح پڑھ ۔ سورہ واقعہ آیت 96 اللہ فرماتا ہے اے میرے بندو اگر کسی کو تمہاری طرف کوئی حاجت ہو وہ مجھے انؐ (محمدؐ و آلِ محمدؐ) کے زریعے سے پکارے اور انؐ سے توسل کر لے تو میں سائل کا سوال کبھی بھی رد نہیں کرتا ۔ اور میں اس کی دعا بھی رد نہیں کرتا میں اس کی دعا کیسے رد کروں جو میرے حبیب ، صفوت ، ولی ، حجت ، روح ، کلمہ ، نور ، آیت ، باب ، رحمت ، وجھہ اور نعمت کے زریعے پکارے اور طلب کرے ۔ خبردار! میں نے انؐ کو اپنے نورِ عظمت سے خلق کیا ہے ۔ اور ان کو میں نے اہلِ کرامت و ولایت قرار دیا ہے ۔ جو شخص انؐ کے حق کا عارف ہو اور ان کے زریعے مجھ سے طلب کرے تو میرے اوپر اس کی بات ماننا واجب ہے اور اس کا میرے اوپر حق ہے! وسائل الشیعہ جلد7 صفحہ 103، باب 37 حدیث 8850، مشارق الانوار الیقین صفحہ 364 اسمِ اعظم پاک معصومینؑ ہیں اور انؐ کے زریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں جب مولا علیؑ نے سورج کو پلٹایا تو آپؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا : یا امیر المومنینؑ آپؑ نے سورج کیسے پلٹایا؟ آپؑ نے فرمایا : میں نے اللہ کو اسمِ اعظم کے زریعے پکارا ہے اور اس نے میرے لئے سورج پلٹا دیا ہے آپؑ کی رجوع کے وقت یہ دعا ہے ۔ باسمک العزیز ، باسمک العظیم " عزیزمحمدؐ ہیں اور عظیم علیؑ ہیں" پس اللہ کا فرمان کا مطلب یہ ہے کہ "اللہ کے عظیم اعلیٰ اسم کی تسبیح پڑھو ۔ جو عظیم اور اعلیٰ ہے" تسبیح کیا کرو یہ علی العظیم کی گر چاہتے ہو تم سے وہ راضی رہے خدا از قلم : فقیر درِ پاک زھراؑ سید جرّارؔ حیدر نقوی ۔ ٹورانٹو کینیڈا
  2. ﷽ اور جو شخص ایمان کیساتھ کفر کرے گا تو یقیناً اس کا عمل ضائع ہو گیا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والا ہو گا (سورہ المائدہ آیت 5) امام ابو جعفرؑ نے فرمایا اس آیت کی تفسیر بطنِ قرآن میں ہے یعنی جو علیؑ کی ولایت کا انکار کرے گا علیؑ ہی ایمان ہیں ۔ بصائر الدرجات حصہ اول صفحہ 221 "اب جو بھی علیؑ کی ولایت کا انکار کرے گا اسکے عمل ضائع اور آخرت میں نقصان فقط اس وجہ سے کہ اسنے ولایتِ علیؑ کا انکار کیا" یقیناً تم اختلاف والی بات میں پڑے ہو (سورہ زاریات آیت 8) امام ابو جعفرؑ نے فرمایا اس سے مراد علیؑ ہیں یعنی وہ مختلف علیہ ہیں اس امت نے ان کی ولایت میں اختلاف کیا ہے پس جو ولایتِ علیؑ پر قائم رہا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے ولایتِ علیؑ کی مخالفت کی وہ آگ میں داخل ہو گا - بصائر الدرجات حصہ اول صفحہ 222 "روزِ حشر کی حقیقت" گر ہو قبول تم کو ولائے علیؑ تو جنّت ورنہ تمہیں ہے جلنا دوزخ کی آگ میں بس از قلم : فقیر درِ پاک زھراؑ سید جرّار حیدر نقوی - ٹورانٹو کینیڈا
  3. ﷽ اس آسمان کی قسم جو بُرجوں والا ہے ۔ سورہ البروج آیت 1 ۔۔۔ فرمانِ رسولِ اکرمؐ آسمان سے مُراد میںؐ ہوں اور برجوں سے مُراد میرےؐ بعد آئمہ معصومینؑ ہیں انؑ میں سے پہلا علیؑ ہے اور انؑ کا آخری مہدیؑ ہے میرا وصیؑ اور جانشینؑ حقیقی خدا کے اولیاء ہیں اور اُس کے سچے خلفاء ہیں انؑ کی تعداد مہینوں کی تعداد کے برابر ہے جو کہ بارہ ہیں ان کی تعداد موسیٰؑ بن عمران کے اوصیاؑ کی تعداد کے برابر ہے ۔ مناقبِ اہلِ بیتؑ جلد 1 صفحہ 127 جب ہماراؑ قائمؑ خروج کرے گا تو خدا اپنی رحمت کا ہاتھ لوگوں کے سروں پر رکھے گا جس سے انکی عقلیں درست اور افہام کامل ہوں گے ۔ الشافی (اصول کافی کا اردو ترجمہ) جلد 1صفحہ 60 یا اللہ! آج کے دن کی صبح کو اور میری حیات کے تمام ایام میں، میں امامِ زمانہؑ کے لئے اپنے اس عہد اور بندھن اور پیوند اور بیعت کی تجدید کرتا ہوں جو میری گردن پر ہے، اور (عہد کرتا ہوں کہ) کبھی اس عہد و بیعت سے کبھی پلٹوں گا نہیں اور کبھی اس سے دستبردار نہیں ہوں گا؛ یااللہ! مجھے ان کے انصار اور ان کے مددگاروں اور ان کا دفاع کرنے والوں، اور ان کے فرمان کی تعمیل کے لئے ان کی طرف تیزی کرنے والوں، اور ان کے احکامات کی پیروی کرنے والوں، اور ان کی حمایت و حفاظت کرنے والوں، اور ان کے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ان کی طرف بڑھ کر جانے والوں، اور ان کے رکاب میں قتل جام شہادت نوش کرنے والوں، میں قرار دے۔ یا اللہ! اگر میرے اور انؑ کے درمیان موت حائل ہوئی ـ جو تو نے اپنے بندوں کے لئے قضائے حتمیہ کے طور پر قرار دی ہے ـ تو مجھے قبر سے خارج کردے ایسے حال میں کہ کفن میرا لباس ہو، میری شمشیر نیام سے باہر ہو، میرا نیزہ برہنہ ہو، شہروں اور دیہاتوں میں، دعوت دینے والے کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے؛ اے اللہ! مجھے دکھا دے وہ سنجیدہ اور ہدایت دینے والا چہرہ، وہ پسندیدہ پیشانی، اور ان کے دیدار کو میری آنکھوں کا سرمہ قرار دے ۔ دعائے عہد سے اقتباس ۔ معصومؑ کا فرمان ہے جو بھی دعائے احد چالیس دن خلوصِ نیت ، یقین و عقیدت سے پڑھے گا وہ امامؑ کے انصار میں شامل ہو گا فرمانِ امام جعفر الصّادقؑ : تم لوگوں پر لازم ہے کہ تم اپنے صاحبِ زمانؑ کے دامن کو تھام لو، پس تم لوگ کدھر جارہے ہو اور تمہارا صاحب ؑ تم کو جنت کی طرف لے جارہا ہے، خدا کی قسم، جنت کی طرف لے جارہا ہے، خدا کی قسم، جنت کی طرف لے جارہا ہے۔ امالی طوسی جلد ۲ صفحہ ۲۶ مجھ کو یقیں ہے میرا وہ سچّا امامؑ آئے گا کعبے کی چھت پہ پھر وہؑ غازیؑ کا علم سجائے گا تم بھی انتظار کرو بلا شبہ ہم بھی منتظر ہیں سورہ ھود آیت 122 فرمانِ امام علیؑ : میں اُس حُسینؑ کو دیکھتا ہوں کہ اِسکا نُور اِسکی پیشانی پر چمکتا ہے میں اُسکو اُسکے وقت پر ایک مُدّت کے بعد حاضر کروں گا۔ پس یہ اِس زمین کو الٹ پلٹ کر دیگا اور اُس کے ساتھ ہر جگہ سے کچھ مومن اُٹھیں گے اگر میں چاہوں تو نام بنام اُنکا اور اُن کے باپ کا پتہ دے دوں۔ کوکبِ دُرّی صفحہ 110 اللہ بھی منتظر ہے جرّارؔ تیرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ آئے گا ایک دن وہؑ جسکا ہے انتظار از قلم : فقیر درِ پاک زھراؑ سید جرّارؔ حیدر نقوی - ٹورانٹو کینیڈا
  4. قساوتِ قلبی (سنگ دلی) اور اس کے اسباب: فرامینِ معصومینؑ: 1- ذکرِ الٰہی کو چھوڑ کر زیادہ باتیں نہ کیا کرو کیونکہ کثرتِ کلام سے دلوں میں سختی پیدا ہوتی ہے اور سخت دل شخص اللہ سے بہت زیادہ دور ہوتا ہے 2-تین چیزیں دلوں کو سخت کر دیتی ہیں ۔ - بے ہودہ گفتگو کو توجہ سے سُننا - شکار کی تلاش - سلاطین کے دروازوں پر جانا 3-آنکھیں دل کی سختی کی وجہ سے خشک ہو جاتی ہیں (یعنی گریہ نہیں کرتیں) اور دلوں کی سختی گناہوں کی کثرت سے پیدا ہوتی ہے 4- اللہ نے موسیٰؑ پر وحی فرمائی کہ کثرتِ مال پر مغرور نہ ہونا اور میرے ذکر کو نہ چھوڑنا ، میرے ذکر کو چھوڑنے سے دلوں میں سختی پیدا ہوتی ہے 5-اللہ نے موسیٰؑ سے فرمایا موسیٰؑ دنیا میں رہ کر اپنی امیدوں کو دراز نہ کرنا ورنہ تمہارا دل سخت ہو جائے گا اور سخت دل شخص مجھ سے دور ہے تفسیر نور الثقلین جلد 1- صفحہ 173 اور 174 روشن تمہارا دل ہو حُبِّ علیؑ سے گر نہ سجدے خدا کو پھر یہ بیکار ہیں تمہارے از قلم : فقیر درِ پاک زھراؑ سید جرار حیدر نقوی ۔ ٹورانٹو کینیڈا
  5. ﷽ ۔ اللہ کے اسم کے ساتھ جو رحمان اور رحیم ہے اور جو میرے ذکر سے اعراض (روگردانی، کنارہ کشی) کرے گا اس کے لئے زندگی کی تنگی بھی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا بھی محشور کریں گے ۔ سورہ طہ آیت 124 ذکرِ ربّ سے اعراض (روگردانی، کنارہ کشی) سے مطلب ولایتِ امیر المومنین علیؑ ابنِ ابی طالبؑ سے اعراض (روگردانی، کنارہ کشی) ہے ۔ تفسیرِ نورِالثقلین جلد 5 صفحہ 5099 بحوالہ الکافی جس نے ولایتِ علیؑ ابنِ ابی طالبؑ سے انکار کیا تو دنیا میں اس کا دل اندھا ہوا اور آخرت میں بصیرت سے اندھا مجمع الفضائل جلد 2 صفحہ 420 فرمانِ رسولِ اکرمؐ : میرےؐ بعد علیؑ کا مخالف کافر ہے ، مشرک ہے ، غدّار ہے ، میرےؐ بعد علیؑ کا مُحب سچا مومن ہے، علیؑ سے بغض رکھنے والا منافق ہے ، علیؑ سے جنگ کرنے والا دین سے خارج ہے ، علیؑ کو رد کرنے والا باطل کی طرح فنا ہونے والا ہے اور علیؑ کی پیروی کرنے والا صالحین سے مل جانے والا ہے مشارق الانوار الیقین صفحہ 11-12(آن لائن) مشارق الانوار الیقین صفحہ 244 (کتاب) اللہ ربّ العزت نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص یہ شہادت نہ دے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ یا یہ شہادت تو دے مگر یہ شہادت نہ دے کہ مُحمدؐ میرے رسولؐ ہیں یا یہ شہادت تو دے مگر یہ شہادت نہ دے کہ علیؑ ابن ابی طالبؑ میرے خلیفہ ہیں یا یہ شہادت تو دے مگر یہ شہادت نہ دے کہ اُنکیؑ اولاد میں آئمہؑ میری حجت ہیں ۔ تو اُس نے میری نعمت کا انکار کیا میری عظمت کو کمتر جانا اور آیات و کُتب کا انکار کیا ۔ کمال الدین و تمام النعمہ صفحہ 278۔ شیخ صدوق رحمہ کرتا قبول ہے پھر اللہ مری نمازیں دیتا ہوں جب گواہی جرّار میں علؑی کی از قلم: فقیر درِ پاک زھراؑ سید جرار حیدر نقوی ۔ ٹورانٹو کینیڈا
  6. " مومن کے آنسو" اے اہلِ کوفہ میرے نسب کو پہچانو اور مجھے پہچانو کہ میںؑ کون ہوں؟ پھر اپنے آپ پر نفرین کرو اور غور کرو کہ تمہارے لئے مجھے قتل کرنا اور میری حرمت نہ کرنا جائز ہے؟ کیا میں تمہارے پیغمبرؐ کا فرزندؑ نہیں؟ کیا میں تمہارے پیغمبرؐ کے وصیؑ اور انؐ کے چچاذاد بھائی کا بیٹا نہیں ہوں؟ کیا حضرت حمزہؑ میرے چچا نہیں ہیں؟ کیا حضرت جعفر طیارؑ جو بہشت میں دو پروں سے محوِ پرواز ہیں میر چچا نہیں؟ کیا پیغمبرؐ کا فرمان میرے اور میرے بھائی کے متعلق تم تک نہیں پہنچا کہ "یہ دو جوان اہلِ بہشت کے سردار ہیں"؟ جو میں کہتا ہوں اگر یہ سب سچ ہے تو اس کی تصدیق کرو کیا رسولِ پاکؐ کے فرامین جو انہوں نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں فرمائے ہیں تم کو میرا خونِ ناحق بہانے سے نہیں روکتے؟ اگر ان فرامینِ رسولؐ کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہو تو کیا اس امر میں بھی شک ہے کہ میں محمدؐ مصطفیٰؐ کی پاک دخترؑ کا بیٹا ہوں خدا کی قسم مشرق و مغرب میں تمہارے درمیان اور تمہارے علاوہ اور لوگوں کے درمیان میرے سوا اور کوئی پیغمبرِؐ خدا کی پاک بیٹیؑ کا فرزند نہیں وائے ہو تم پر!!! ( مقتل ابی مخنف صفحہ 187) فرمانِ امام صادقؑ : ہمارے اوپر کئے گئے مظالم کی یاد میں ایک آہ تسبیحِِ خُدا ہے ، ہم پر کئے گئے مظالم کی یاد میں غم عبادت ہے ، آپ لوگوں پر واجب ہے کہ اس بیان کو سونے سے لکھ لو ۔ (الدّمعتہ الساکبہ جلد 1 صفحہ 11، 12) فرمانِ پاک معصومینؑ: امام حُسینؑ ہر مومن کے آنسو ہیں ۔ (کامل الزّیارات جلد 1 صفحہ 258 (اردو)) ماتم سےلکھ رہا ہوں وفاؤں کی داستاں زنجیریُوں اُٹھائے دیتا ہوں میں اذاں قرآن لکھ رہا ہوں اپنی کمرپہ ایسے جرّارؔ بن رہے ہیں ماتم کے جو نشاں از قلم : فقیر درِ پاک زھراؑ سید جرار حیدر نقوی ۔۔ٹورانٹو کینیڈا
  7. بسم اللہ الرحمن الرحیم جو شخص اس بات سے خوش ہونا چاہے کہ وہ ایمان کے ہر درجہ میں کامل ہو جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ یوں کہنا اور عمل کرنا اختیار کرے کہ ہر ہر چیز اور ہر ہر معاملے میں میرا وہی قول ہے جو آلِ مُحمدؐ کا قول ہے، خواہ مجھے معلوم ہو یا مجھ سے پوشیدہ ہو، خواہ وہ مجھ تک پہنچا ہو یا نہ پہنچا ہو ۔ (الکافی) جب ہماراؑ قائمؑ خروج کرے گا تو خدا اپنی رحمت کا ہاتھ لوگوں کے سروں پر رکھے گا جس سے انکی عقلیں درست اور افہام کامل ہوں گے الشافی (اصول کافی کا اردو ترجمہ) جلد 1صفحہ فرمانِ امام باقرؑ: اے جابر جب تمہارے پاس ہمارے فضائل و کمالات کے متعلق کوئی حدیث پہنچے اور تمہارا دل اس کو نرمی سے مان لے تو خدا کا شکر ادا کرو اور اگر نہ مانے تو اس کے علم کو ہمارے سپرد کرو اور ایسا نہ کہو کہ یہ حدیث کیونکر اور کیسے ہو سکتی ہے ایسا کہنا بخدا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ جواہر الاسرار فی مناقب آئمۃ الاطھارؑ صفحہ 35 فرمان پاک امام جعفر الصّادقؑ اگر لوگ روزے رکھیں ، نمازیں پڑھیں اور یہ بھی کہیں کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں لیکن وہ اپنے دلوں میں یہ فیصلہ کر لیں کہ ہمؑ (معصومینؑ) کی طرف رجوع نہ کریں گے ،تو صرف اس ایک وجہ سے وہ مشرکین ہو جائنگے ۔ کیونکہ انہیں ہماریؑ معرفت کا حکم دیا گیا ہے اور ہماریؑ طرف رجوع کرنے اور صرف ہمؑ سے حکم حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اصولِ کافی جلد2 صفحہ 222 ملتا رہے یہ مجھ کو بس رزقِ معرفت جرّار اس سے بڑھ کر کوئی دعا نہیں از قلم: فقیر درِ پاک زھراؑ سید جرّارؔ حیدر نقوی ۔ ٹورانٹو کینیڈا
  8. اور آپ کا پروردگار جسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور پسند کرتا ہے ، ان لوگوں کو کسی کا انتخاب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ، خدا ان کے شرک سے پاک اور بلند و برتر ہے ۔ سورہ القصص آیت 68 امامت کی شرائط میں سے چند شرائط یہ ہیں کہ : 1- وہ ظالم نہ ہو جب کہ ہر غیرِ معصوم کسی نہ کسی طرح سے ظالم ہوتا ہے لہٰذا امامؑ کے لئے معصومؑ ہونا ضروری ہے 2-امامؑ وہ نہیں جو قیاسی مسائل بیان کرے ۔ امامؑ وہ ہے جو اللہ کے حکم سے ہدایت کرے 3-امامؑ زمین کا وارث ہوتا ہے تفسیرِ نور الثقلین جلد6 صفحہ 193 فرمانِ امام علیؑ امامؐ کلمتہ اللہ، حجت اللہ ، وجہہ اللہ ہوتا ہے امامؐ کو اللہ منتخب کرتا ہے ۔ امامؑ کا کوئی مثل و نظیر نہیں ہے اور نہ کوئی امامؑ کا بدل ہے ۔حدیثِ طارق تسلیم کر رہا ہوں اللہ کے حکم کو سر کو یہ خم کیا ہے در پہ امامؑ کے شیطاں کا وار مجھ پہ کرتا نہیں اثر جرّارؔ ہیں محافظ مولاؑ غلام کے از قلم : فقیر درِ پاک زھراؑ سید جرّارؔ حیدر نقوی – ٹورانٹو کینیڈا
  9. فرمانِ پاک محمد مصطفٰیؐ : بے شک اللہ ہر روز ملائکہ مقربین میں علی ؑ پر فخر کرتا ہے ۔ القطرہ جلد 2 صفحہ 134 ، بشارۃ المصطفیٰ صفحہ 66 ، ریحانۃ المودۃ صفحہ 11 فرمانِ پاک محمد مصطفٰیؐ : یا علیؑ آپکیؑ مثال میری اُمّت میں قل ھو اللہ احد جیسی ہے ، جس نے بھی آپؑ سے اپنے ہاتھ، دل اور زبان سے محبت کی اُسکا ایمان مکمل ہوا ۔ القطرہ جلد1 صفحہ 152 ، ریحانہ المودۃ صفحہ 33 فرمانِ پاک محمد مصطفٰیؐ : علیؑ کے بارے میں شک میں داخل نہ ہو جانا ، کیونکہ بیشک علیؑ کے بارے میں شک کرنا اللہ تعالیٰ کا انکار(کُفر) کرنا ہے ۔ بشارۃ المصطفیٰ صفحہ 79 ، ریحانۃ المودۃ صفحہ 11 فرمانِ پاک علیؑ : میں ہی راہِ ہدایت ہوں ، انبیائے سلف کی کتابوں میں میرا نام ایلیاؑ ہے، عرب میں علیؑ اور توریت میں اوریاؑ ہے انمول جواہر صفحہ 26-277، کوکبِ دُرّی قدیم حضرت داؤدؑ کے صحیفہ زبور کی چند سطریں جو قدیم عبرانی زبان میں مذکور ہیں : اُس ذاتِ گرامی کی اطاعت کرنا واجب ہے جس کا نام ایلی(علیؑ) ہے اسکی فرمانبرداری سے ہی دین و دنیا کے سب کام بنتے ہیں ۔ اس گراں قدر ہستی کو حدار (حیدرؑ) بھی کہتے ہیں ۔ جو بیکسوں کا سہارا، شیر ببّر ، بہت قوت والا اور کعبہ میں آنیوالا ہے اس کا دامن پکڑنا اور اس کی فرمانبرداری میں ایک غلام کی طرح رہنا ہر شخص پر فرض ہے ۔ سُن لو جسکے کان ہوں ، سمجھ لو جس کا دماغ ہو ، سوچ لو جس کا دل ہو کہ وقت گزر گیا تو پھر ہاتھ نہ آئے گا اور میری جان میرے جسم کا تو ایک وہی سہارا ہے – ایلیا صفحہ 9 (حکیم سید محمود گیلانی مرحوم) روشن تمہارا دل ہو حُبّ ِ علیؑ سے گر نہ سجدے خدا کو پھر یہ بیکار ہیں تمہارے از قلم : فقیر درِ پاک زھراؑ سید جرار حیدر نقوی ۔ ٹورانٹو کینیڈا
  10. پاک معصومینؑ کا ظہور و نزول ہوتا ہے ولادت نہیں ۔ قرآن و حدیث سے ثابت کرتے ہیں بسم الله الرحمن الرحيم فَآمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنزَلْنَا ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴿٨﴾ سورہ التغابن آیت 8 ترجمہ : لہذا اللہ اور رسولؐ اور اس نور پر ایمان لے آؤ جسے ہم نے نازل کیا ہے کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے اس آیت کی تفسیر میں امام باقرؑ نے فرمایا: نور سے مراد قیامت تک ہمؑ آئمہ آلِ محمدؐ ہی ہیں ۔ بخدا ہم ہی وہ نور ہیں جنؑ کو نازل کیا گیا اور ہمؑ ہی آسمانوں اور زمین میں اللہ کا نور ہیں تفسیر قمی صفحہ 583 ، تفسیر برھان صفحہ 1120 ، بحار الانوار جلد 7 صفحہ 944، جواہر الاسرار فی مناقبِ آئمہ اطہارؑ صفحہ 130 "ہم نے انؐ کو وہی لباس پہنایا جو لباس لوگ پہنتے ہیں " سورہ انعام آیت 9 پاک معصومینؑ کا ظاہر بشری ہے اور باطن اللہ کی طرف منسوب اور مربوط ہے لوگوں کے درمیان لوگوں کی شکل میں ظاہر ہوئے ہیں تا کہ لوگ ان ؐ کو دیکھ سکیں ۔ مناقبِ اہلِ بیتؑ جلد اول صفحہ 94 اور زمین اپنے رب کے نُور سےچمک اُٹھے گی ۔ سورہ الزمر آیت 69 تفسیرِ قُمیّ میں امام جعفر الصّادقؑ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ زمین کا رب زمین کا امام ؑہے اور فرمایا کہ جب قائمِ آلِ مُحمدؐ آ جائنگے تو اس وقت زمین اپنے رب کے نُور سے چمک اُٹھے گی۔اور لوگ سورج کی روشنی سے بے نیاز ہو جائنگے اور اندھیرا جاتا رہے گا ۔ ماسوا اسکے نہیں کہ اسکا امر یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ہو جا تو فوراً وجود میں آ جاتی ہے ۔ سورہ یس آیت 82 فرمانِ سرکارِامامِ علیؑ خدا تعالیٰ نے معصومینؑ کو اپنے نورِ عظمت سے نازل کیا ہے اور اپنے امورمملکت کی سر پرستی انؑ کے سپرد کی ہے۔وہ ؑخدا کے پوشیدہ راز ،پروردگار کے مقرب اولیاءؑ اور اسکے ایسے امر ہیں جو کاف اور نون کے درمیان ظاہر ہوئے، بلکہ خود کاف و نون ہیں، لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں، اللہ کی طرف سے بات کرتے ہیں، اور اس کے فرمان کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔ مناقبِ اہلِ بیتؑ (القطرہ کا اردو ترجمہ)جلد1 صفحہ232،مشارق الانوار 114 جب فرشتوں نے رسولِ پاکؐ کا نور دیکھا تو کہنے لگے یہ کس کا نور ہے جو ہمارے پروردگار کے نور کی مانند ہے تو جبرائیلؑ نے پڑھا اشھد ان محمدؐ رسول اللہ ۔ مناقبِ اہلِ بیتؑ (القطرہ کا اردو ترجمعہ) جلد اول صفحہ 107 فرمانِ امام باقؐر اللہ عزوجل نے پاک بی بی سیدہؑ طاہرہؑ کو اپنے نورِ عظمت سے خلق فرمایا جب آپؐ کا نور چمکا تو آسمان و زمین روشن ہو گئے آپؐ کے نور کی روشنی سے ملائکہ کی بصارت جواب دے گئی اور ملائکہ سجدے میں گر گئے۔اور عرض کی : اے معبود و سردار یہ نور کس کا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے انکی طرف وحی کی کہ یہ میرے نور سے نور ہے میں نے اسے اپنی عظمت سے خلق کیا ہے القطرہ (عربی) ۔ جلد 2 ۔ صفحہ 257، ریحان المودہ صفحہ 51 پاک اِمام باقرؑ ہمارا نُور اللہ کے نُور سے اس طرح صادر ہوتا ہے جِس طرح آفتاب سے اِسکی شُعائیں صادر ہوتی ہیں غایت المرام فی ضرورت الامام -کشف المعارف ص 71 فرمانِ پاک امیر المومنین علیؑ ہمؑ کو خدائی سے نیچے رکھو ۔ خطوطِ بشری کو ہم ؑسے دفع کرو کہ ہمؑ تُمہاری طرح کے خطوطِ بشریت سے دور ہیں ۔ اور جو کچھ تم پر گزرتا ہے ۔ ہمؑ اس سے پاک و منزہ ہیں ۔ اور پھر ہمارےؑ حق میں جو تمہارا دل چاہے کہو ۔ تم ہرگز ہمارےؑ منتہائے کمال اور فضائل کی معرفت کو نہیں پہنچ سکتے ۔ کیونکہ سمندر خشک نہیں ہو سکتا اور سر غیب پہچانا نہیں جا سکتا ۔ اور کلمتہ اللہ کی توصیف نہیں ہو سکتی۔ مقدمہ کوکبِ دُرّی صفحہ 39-40 فرمانِ آئمہ معصومینؑ ہمؐ اسرارِ الٰہی ہیں جو بشری بدنوں میں رکھ دئے گئے ، ہماری عظمت کو بیان کرنا کسی کے بس میں نہیں ۔ مناقبِ اہلِ بیتؑ (اردو)جلد اول صفحہ 226 اور مشارق الانوار الیقین(عربی) صفحہ 69 فرمانِ آئمہ معصومینؑ ہم انسانی لباس میں اللہ کے راز ہیں اوراللہ کا بولتا ہوا کلمہ ہیں مشارق الانوار الیقین (اردو) صفحہ 76 اللہ یہ راز تیرے ہیں بشری لباس میں کیسے میں جان پاؤں گا بندہ ہوں خاک کا فرمانِ پاک رسولِ اکرمؐ جس شخص پر اللہ نے احسان فرمایا ہو، اسے میری اہلِ بیتؑ کی معرفت اور ولایت عطا کی ہو گویا کہ اللہ نے تمام خوبیاں اس کے لئے جمع کر دی ہیں مناقبِ اہلِ بیت(اردو ترجمہ القطرہ) جلد 1 صفحہ 7 ، بشارۃ المصطفیٰ ؐ صفحہ 176 فرمانِ مولا علیؑ اے سلمانؑ ہلاکت و بربادی ہے اس شخص کے لئے جو ہمارہ حقیقی معرفت نہ رکھتا ہو اور ہماری فضیلت کا انکار کرتا ہو ۔ مناقب اہلِ بیتؑ (اردو ترجمہ القطرہ) حصہ اول صفحہ 209 ، ارشاد القلوب جلد 2 صفحہ 416 جس شخص نے حق کی مخالفت کر کے باطل کو گلے لگایا ہے ، اس کی مخالفت کرو اور اسے اس چیز کے حوالے کر دو جس کو اس نے اپنے نفس کے لئے پسند کیا ہے ۔ غرر الحکم (اقوالِ علیؑ) جلد 1 صفحہ 110 اور جو لوگ اسکے مطابق حکم نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ۔ پس وہ لوگ فاسق ہیں ۔ سورہ المائدہ آیت 47 آپ ان کے درمیان تنزیل خدا کے مطابق فیصلہ کریں اور خدا کی طرف سے آئے ہوئے حق سے الگ ہوکر ان کی خواہشات کا اتباع نہ کریں ۔ سورہ المائدہ آیت 48 وہ گمراہ ہوا جس نے اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کی ۔ سورہ القصص آیت 50 فرمانِ امام علیؑ: اللہ نے اپنے راز کو امامؑ میں رکھ دیا اور اُس کی زُبان پر خود اللہ بولتا ہے پس امامؑ معصومؑ ہے ! مگر لوگوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی مشارق الانوار الیقین (اردو) صفحہ 143-144 ایک بات زہن نشین کر لیں ہم نے اس پوری گفتگو میں اپنی رائے آپ سے شئیر نہیں کی بلکہ قرآن و حدیث شئیر کی ہے اور اس تمام سے ثابت ہوتا ہے کہ پاک معصومینؑ کا نزول ہوتا ہے ظہور ہوتا ہے ولادت نہیں اللہ کا حلال قیامت تک حلال ہے اور حرام قیامت تک حرام ہے.اب ممبروں پر جو تم چاہو اپنی رائے سے کہو کیونکہ اپنی رائے کو قرآن و حدیث کے مقابلہ پر لانے کے جرم میں روزِ حشر سوال ہو گا یہ جان لو کہ دین میں رائے شرک ہے فرمانِ معصومؑ: ادنیٰ شِرک یہ ہے کہ آدمی کوئی نئی رائے ایجاد کرے اور پھر اسی پر اپنی دوستی اور دشمنی کی بنیاد رکھے من لا یحضرہ الفقیہ جلد 3 صفحہ 352 حدیث 4955، 4956 فرمانِ امام باقرؑ اے جابر جب تمہارے پاس ہمارے فضائل و کمالات کے متعلق کوئی حدیث پہنچے اور تمہارا دل اس کو نرمی سے مان لے تو خدا کا شکر ادا کرو اور اگر نہ مانے تو اس کے علم کو ہمارے سپرد کرو اور ایسا نہ کہو کہ یہ حدیث کیونکر اور کیسے ہو سکتی ہے ایسا کہنا بخدا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے جواہر الاسرار فی مناقب آئمۃ الاطھارؑ صفحہ 35 فرمانِ امام جعفر الصّادقؑ لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کراپنے عالموں زاہدوں کو اپنا خدا بنا ڈالا۔ اگر وہ عُلما اپنی عبادت کرنے کی دعوت دیتے تو لوگ ہرگز اس کو قبول نہ کرتے بلکہ ان عُلما نے خدا کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دیا۔ لوگوں نے اس کو مان کرلا شعوری طور پر خدا کے بجائے انکی اطاعت کر کے ان کی عبادت کی الکافی جلد 2 صفحہ 398 ، میزان الحکمت جلد 1 صفحہ 19 اور آخر میں جو یہ سب جان کر بھی نہیں مانیں گے انکے لئے فرمان امام جعفر الصّادقؑ ہے کہ خدا کہتا ہے کہ جہالت آنکھوں کو اندھا نہیں کرتی بلکہ وہ ان دلوں کو اندھا بنا دیتی ہے جو سینوں کے اندر ہیں ۔ کیونکر ہدایت پائے گا وہ جس نے سمجھا نہیں اورکیونکر سمجھے گا وہ جس نے غور نہیں کیا۔ اصولِ کافی ۔ کتابِ حجت ۔ باب 7 ۔ حدیث 7 لوگوں کے سامنے یہ کیا ذکر میں کروں اندھے مزاج کے ہیں یہ جان بوجھ کر میری دعا ہے کہ یہ ناقص عقلیں ایک دن کامل ہوں جیسے کہ فرمانِ امام باقرؑ الشافی (اصول کافی کا اردو ترجمہ) جلد 1صفحہ 60 پر ہے کہ جب ہماراؑ قائمؑ خروج کرے گا تو خدا اپنی رحمت کا ہاتھ لوگوں کے سروں پر رکھے گا جس سے انکی عقلیں درست اور افہام کامل ہوں گے ۔ اللہ بھی منتظر ہے جرّارؔ تیرے ساتھ - آئے گا ایک دِن وہ جسکا ہے اِنتظار از قلم : فقیر درِ پاک زھراؑ سید جرّارؔ حیدر نقوی ۔ ٹورانٹو کینیڈا
  11. جنت میں طوبیٰ کیا ہے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کے لئے طوبیٰ خوشخبری اور اچھا ٹھکانہ ہے ۔ سورہ الرعد آیت 29 امام باقرؑ سے روایت ہے کسی شخص نے رسول اللہؐ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا تو آپؐ نے فرمایا طوبیٰ جنت میں ایک درخت ہے جس کی جڑ علیؑ کے گھر میں موجود ہے اور اسکی شاخیں تمام اہلِ جنت پر پھیلی ہوئی ہیں ، فرمایا میراؐ اور علیؑ کا گھر ایک ہی ہے۔ ابو جعفر محمدؑ بن علیؑ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ جب میں آسمان پر پہنچا پھر وہاں سے ساتویں آسمان پر گیا میں نے وہاں ایک خوبصورت درخت دیکھا اتنا خوبصورت اور بڑا درخت پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، میں نے جبرائیلؑ سے کہا اے دوست یہ کون سا درخت ہے کہا یہ طوبیٰ ہے میں نے کہا یہ بلند آواز کیسی ہے ، کہا یہ طوبیٰ کی آواز ہے اور کہا ہے " اے علیؑ ابنِ ابی طالبؑ میں تیری زیارت کا بیحد مشتاق ہوں" امام جعفر الصادقؑ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا ، طوبیٰ میرے گھر کا ایک درخت ہو گا اور اس کی شاخیں میرےؐ اہلِ بیتؑ کے گھروں میں ہوں گی دوسری مرتبہ فرمایا : طوبیٰ علیؑ کے گھر میں ایک درخت ہو گا اور اسکی شاخیں میرے اہلِ بیتؑ کے گھروں میں پھیلی ہوئی ہوں گی ، عمر ابنِ خطاب بولا یا رسول اللہؐ کل تو آپؐ نے فرمایا تھا کہ طوبیٰ کا درخت میرے گھر میں ہو گا؟ رسول اللہؐ نے فرمایا تمہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ میرا اور علیؑ کا گھر ایک ہی ہے۔ ابنِ عباس نے کہا رسول اللہؐ نے فرمایا : جنت میں ایک درخت ہے جس کا نام طوبیٰ ہے ہر گھر میں اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں وہ شہد سے زیادہ میٹھا مکھن سے زیادہ نرم ہے اس کی جڑ میرے گھر میں ہے اور اسکی فرع علیؑ کے گھر میں ہے عیسیٰ بن مہران امیر المومنین علیؑ ابنِ ابی طالبؑ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آیت " طوبیٰ لہم و حسن ماب " نازل ہوئی تو مقداد بن اسود کندی نے کہا یا رسول اللہؐ طوبیٰ کیا چیز ہے؟ آپؐ نے فرمایا : جنت کا ایک درخت ہے اگر گھوڑے پر سوار شخص سو سال تک اس کے سایہ میں چلتا رہے تو اس کے ایک پتہ کے برابر راہ طے نہیں کر سکے گا اس کے پھول پیلے ، اس کی ٹہنیاں سندس اور استبراق کی ہیں اس کے پھل سبز پوشاکیں ہیں ، اس کا ذائقہ سونٹھ اور شہد ، اس کی جڑ سے سبیل اور مشک کے چشمے جاری ہیں ، اس کا سایہ شیعانِ علیؑ کے بیٹھنے کی جگہ ہے ۔ تفسیر فرات (اردو) صفحہ 134 تا 136 فرمانِ امام علیؑ تم میں اللہ سے وہ زیادہ ڈرتا ہے جو زیادہ معرفت رکھتا ہے ۔ اقوالِ علیؑ ( غرر الحکم کا اردو ترجمہ) جلد 1 صفحہ 237 نامِ علیؑ کے صدقے باقی ہیں سب جہان ارض و سماں کے بھی یہ باقی ہیں سب نشان گرتے نہیں یہ سب کچھ جرّارؔ کیوں بھلا اسمِ جلی کے صدقے باقی ہیں آسمان از قلم: فقیر درِ پاک زھراؑ سید جرار حیدر نقوی۔ ٹورانٹو کینیڈا
  12. !امامِ بر حقؑ کو اللہ منتخب کرتا ہے لوگ نہیں وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ ۗ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ ۚ سُبْحَانَ اللَّـهِ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴿القصص- 68﴾ اور آپ کا پروردگار جسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور پسند کرتا ہے ، ان لوگوں کو کسی کا انتخاب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ، خدا ان کے شرک سے پاک اور بلند و برتر ہے – سورہ القصص آیت 68 فرمانِ امام علیؑ امامؐ کلمتہ اللہ، حجت اللہ ، وجہہ اللہ ہوتا ہے امامؐ کو اللہ منتخب کرتا ہے ۔ امامؑ کا کوئی مثل و نظیر نہیں ہے اور نہ کوئی امامؑ کا بدل ہے حدیثِ طارق فرمانِ امام جعفر صادقؑ یہ گناہگار امت جو اپنے نبیؐ کے وصال کے بعد ابتلاء و آزمائش میں پڑ گئی اور امامِ برحق ؑ کا دامن چھوڑ دیا جسے پیغمبرِ اسلامؐ اسکے لئے مقرر کر گئے تھے۔ تو خدا اس امت کا نہ کوئی عمل قبول کرے گا اور نہ ہی اسکی کسی نیکی کو بلند کرے گا ۔ جب تک اس راستے سے اللہ کی بارگاہ میں نہ آئے جس راستے سے آنے کا اللہ نے اسے حکم دیا ہے اور جب تک امامِ برحقؑ سے محبت نہ کرے جسکی ولایت و محبت کا اس نے حکم دیا ہے (وسائل الشیعہ جلد 1 – صفحہ 101 – باب 29 – حدیث 5) وہ گمراہ ہوا جس نے اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کی سورہ القصص آیت 50 فرمانِ مولا علیؑ اللہ نے اپنے راز کو امامؑ میں رکھ دیا اوراُس کی زُبان پر خود اللہ بولتا ہے پس امامؑ معصومؑ ہے ! مگر لوگوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی مشارق الانوار الیقین (اردو) صفحہ 143-144 فرمانِ مولا علیؑ کتنے ہی با عظمت لوگ کُفرنافرمانی (اللہ کے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر کے اور پاک معصومینؑ کے فرامین کو چھوڑنے) کے سبب ، یا معاشرہ میں منفور (جس سے نفرت کی جائے) ہونے کی وجہ سے ہر حقیر سے زیادہ حقیر ہو گئے ۔ غرر الحکم (اقوالِ علیؑ) حصّہ اوّل صفحہ 31 تُم پر ہم نے یہ کتاب نازل کی ہے جو ہر ہر چیز کو بیان کرتی ہے اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبریاں ہیں اسلام لانے والوں کے لئے سورہ النحل آیت 89 فرمانِ پاک معصومینؑ: یقیناً اللہ نے قرآن میں ہر چیز کا بیان نازل کیا ہے ۔ بخدا اُس نے کوئی بھی ایسی چیز نظرانداز نہیں فرمائی جس کی بندوں کو احتیاج ہو (اور وہ قرآن میں موجود نہ ہو) یہاں تک کے یہ گنجائش بھی نہیں چھوڑی کہ کوئی بندہ یہ کہے کہ کاش فلاں بات قرآن میں موجود ہوتی اس لئے کہ اللہ نے ہر ایسی بات بھی قرآن میں نازل کر دی ہے اصول کافی باب الرد الی الکتاب والسنۃ جلد اول صفحہ 101 آیاتِ قرآنی و احادیثِ معصومینؑ سے یہ ثابت ہے کہ 1-امامؑ کو اللہ منتخب کرتا ہے اور وہ کوئی بھی زمانہ ہو گزرا ہوا کل، آج یا آنے والا کل کوئی غیرِ معصوم امام نہ بن سکتا ہے نہ اختیار رکھتا ہے کسی کو اس منصب پر فائز کرے ۔ 2- اللہ کے منتخب شدہ امامؑ کا کوئی بدل نہیں جو بھی اللہ کے منتخب شدہ امامؑ معصوم کو چھوڑے اسکا کوئی عمل قبول نہیں 3-امام معصومؑ اللہ کے کے راز ہیں اور امام معصومؑ (اللہ کے منتخب شدہ امام) کی زبان پر اللہ خود بولتا ہے 4-وہ گمراہ ہے جو اپنی خواہش (دنیاوی خواہشات، منصب، دولت وغیرہ) کی پیروی کرتا ہے اور اللہ و معصومینؑ کے فرمان کو رد کرتا ہے اور پاک معصومینؑ کو چھوڑتا ہے اللہ کے حرام کو حلال اور حلا ل کو حرام کرتا ہے ۔ 5۔ اللہ نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جس کی بندوں کو احتیاج ہو ، حاجت ہو ، ضرورت ہواور وہ قرآن میں موجود نہ ہو یعنی ہر جیز کا بیان موجود ہے اور جو بھی تلاش کرنے نکلے اسکو اللہ ہدایت کرتا ہے صراطِ مستقیم کی طرف ۔ اور خدا جس کو چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دے دیتا ہے ۔ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 213 ۔ جو لوگ ہماری طرف آنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں خود سمجھا دیتے ہی ۔ سورہ العنکبوت آیت 69 تسلیم کر رہا ہوں اللہ کے حکم کو سر کو یہ خم کیا ہے در پہ امامؑ کے شیطاں کا وار مجھ پہ کرتا نہیں اثر جرّارؔ ہیں محافظ مولاؑ غلام کے از قلم : فقیر درِ پاک زھراؑ سید جرّار حیدر نقوی - ٹورانٹو کینیڈا
  13. دین میں اپنی رائے شِرک ہے : کتاب کا اصلی علم اللہ تعالیٰ کے اور اُن لوگوں کے جو راسخون فی العلم (علم میں راسخ) ہیں اور کوئی نہیں جانتا ۔سورہ آلِ عمران آیت 7 امام باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: ہم ہیں راسخون فی العلم(علم میں راسخ) اور ہم ہیں تاویلِ قرآن ۔ (اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کوئی بھی غیرِ معصوم راسخون فی العلم نہیں کہلا سکتا) الشافی جلد 2 (الکافی کا اردو ترجمہ) کتاب الحجت باب 21 صفحہ 84 -85 پس اگر تُم نہیں جانتے ہو تو اہل الذّکر سے پوچھ لو ۔ سورہ النحل آیت 43 امام جعفر صادقؑ نے فرمایا : ہم پاک معصومینؑ اہل الذّکر ہیں جن سے سوال کرنے کا حکم ہے ۔ الشافی جلد 22 (الکافی کا اردو ترجمہ) کتاب الحجت باب 19 صفحہ 80 - 81 اس آیت اور امام صادقؑ کی تفسیر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہل الذّکر صرف اور صرف پاک معصومینؑ ہیں اور کوئی غیرِ معصوم نہیں فرمانِ معصومؐ : ادنیٰ شِرک یہ ہے کہ آدمی کوئی نئی رائے ایجاد کرے اور پھر اسی پر اپنی دوستی اور دشمنی کی بنیاد رکھے من لا یحضرہ الفقیہ جلد 3 صفحہ 352 حدیث 4955، 4956 فرمانِ امام باقرؑ جو خوش بختی چاہے کہ اسکے اور اللہ کے درمیان حجاب ختم ہو جائے حتیٰ کہ وہ اللہ کو دیکھ سکے اور اللہ کی نظر اس پر ہو پس وہ آلِ مُحمدؐ سے محبت کرے اور ان کے دشمنوں پر تبرا کرے اور اپنے امامِ وقتؑ سے متمسک رہے القطرہ جلد2 صفحہ 37 فرمانِ امام باقر ؑ مشرق ہو یا مغرب تمہیں صحیح علم ہرگز نہیں مل سکتا سوائے اسکے جو ہم اہلِ بیتؐ سے جاری ہو ۔بصائر الدرجات – جلد 1 – صفحہ 40 لے کر حدیث آیا مُلّا کی راہ میں ہوں مجھکو ہیں موڑنے کچھ بھٹکے ہوئے یہ راہی از قلم: فقیر درِ پاک زھراؑ سید جرّارؔ حیدر نقوی – ٹورانٹو کینیڈا رُتبہ ء امامت فرمانِ سرکارِ عالمین امیر المومنین علیؑ امامت وہ رُتبہ ہے جس تک صرف وہی پہنچ سکتا ہے جسے اللہ نے اختیار کیا ہوا ہے اُسے فوقیت دی ہوئی ہے اُسے والی بنایا ہے اور حاکم بنایا ہے مشارق الانوار الیقین صفحہ 142 فرمانِ امام جعفر الصّادقؑ تم لوگوں پر لازم ہے کہ تم اپنے صاحبِ زمانؑ کے دامن کو تھام لو، پس تم لوگ کدھر جارہے ہو اور تمہارا صاحب ؑ تم کو جنت کی طرف لے جارہا ہے، خدا کی قسم، جنت کی طرف لے جارہا ہے، خدا کی قسم، جنت کی طرف لے جارہا ہے۔ امالی طوسی جلد ۲ صفحہ ۲۶ فرمانِ امام جعفر الصّادقؑ جو شخص اس بات سے خوش ہونا چاہے کہ وہ ایمان کے ہر درجہ میں کامل ہو جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ یوں کہنا اور عمل کرنا اختیار کرے کہ ہر ہر چیز اور ہر ہر معاملے میں میرا وہی قول ہے جو آلِ مُحمدؐ کا قول ہے، خواہ مجھے معلوم ہو یا مجھ سے پوشیدہ ہو، خواہ وہ مجھ تک پہنچا ہو یا نہ پہنچا ہو ۔ (الکافی) (کشف الاحکام صفحہ 2) فرمانِ امامِ جعفر الصّادقؑ ہمارےؑ زریعہ سے اللہ پہچانا گیا اور ہمارےؑ ہی زریعہ سے اُسکی عبادت کی گئی ۔ ہمؑ ہی اللہ کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں اور اگر ہمؑ نہ ہوتے تو اللہ کی عبادت نہ کی جاتی التوحید صفحہ 110، ریحان المودۃ صفحہ 9 فرمانِ امامِ جعفر الصّادقؑ خدا کہتا ہے کہ جہالت آنکھوں کو اندھا نہیں کرتی بلکہ وہ ان دلوں کو اندھا بنا دیتی ہے جو سینوں کے اندر ہیں ۔ کیونکر ہدایت پائے گا وہ جس نے سمجھا نہیں اور کیونکر سمجھے گا وہ جس نے غور نہیں کیا۔ اصولِ کافی ۔ کتابِ حجت ۔ باب 7 ۔ حدیث 7برائے مہربانی قوم کو بے و قوف بنانا چھوڑ دیں اور دکانداری کہیں اور جا کے کریں حجت اللہ وہ ہوتا ہے جو کسی سوال کے جواب میں یہ نہ کہے میں نہیں جانتا!! تحقیق کر رہے ہیں وہ فرمانِ معصومؑ کی تقلید کر چُکے ہیں جو اصلاح الرّسوم کی از قلم: فقیر درِ پاک زھراؑ سید جرار حیدر نقوی۔ٹورانٹو کینیڈا
  14. Ijtehad or Taqleed View File Book : Ijtehad or Taqleed Haqeeqat kiya hay Author : Dr. Ahsan Zaidi Submitter YAALIMADADTORONTO Submitted 03/18/2017 Category Urdu  
  15. Version 1.0.0

    1 download

    Book : Ijtehad or Taqleed Haqeeqat kiya hay Author : Dr. Ahsan Zaidi

Welcome To Shia Forum

At Ajareresalat.net, we have one unifying goal: to seek out the Truth. We welcome individuals from all walks of life and and there exists a diverse mix of cultures and ideologies amongst our members.

Mega Footer

You can configure this content inside your ACP under Customization > Edit > Mega Footer.