Welcome to Ajareresalat.net

Register now to gain access to all of our features. Once registered and logged in, you will be able to contribute to this site by submitting your own content or replying to existing content. You'll be able to customize your profile, receive reputation points as a reward for submitting content, while also communicating with other members via your own private inbox, plus much more!

This message will be removed once you have signed in.

Sign in to follow this  
Followers 0
Ali Haider

Mola Imam Raza Aur Un Ki Jooti

Admin

امام رضا علیہ السلام کا ایک نوکر تھا جس کا نام تھا عبداللہ کافی دن مولا کی غلام میں رہا،
وطن واپس جانے لگاتو مولا نے کہا 'کچھ مانگ' ؛کہنے لگا؛سرکار رزق کم ہے،مولا نے کہا:بڑھا دوں؟
کہنے لگا؛سرکارکی مرضی!
 مولا نے فرمایا دروازے پر میری جوتی پڑی ہے اٹھا کے لے جا'تیری سات نسلوں سے رزق ختم نہیں ہوگا'
اس نے جوتی سر پہ رکھی چونکہ حجت کی تھی،اپنے وطن کی طرف روانہ ہوا،
عین جنگل کے وسط میں پہنچا تو سامنے سے معروف نامی بندہ جس کے ہاتھوں میں 1000اونٹوں کی مہار تھی،
جناب عبداللہ سے کہنے لگا 'جوتی سر پہ رکھی ہوئی ہے پہنتا کیوں نہیں؟'جناب عبداللہ نے فرمایا؛ اپنی ہو تو پہنوں نا،
یہ جوتی مولارضا کی ہے، مولا کا نام سنا،
معروف نے اسی وقت عبداللہ سے کہا 'بیچنی ہے؟' عبداللہ نے کہا؛ہاں اگر مناسب قیمت مل جائے تو' 
معروف نے 1000اونٹوں کی مہار عبداللہ کے ہاتھ میں دی اور کہا'تیری سات نسلوں کے لیے بہت ہے' 
عبداللہ نے سوچا کہ مولا نے بھی سات نسلوں کا کہا تھا،
اس نے جوتی معروف کے حوالے کی اور 1000اونٹ مال سے بھرے ہوئے وطن کی طرف چل پڑا!
معروف مولا کی جوتی سر پہ رکھ کر خراساں مولا کے دربار میں پہنچا،
مولا نے فرمایا جوتی کہاں سے لی ہے؟
معروف نے کہا عبداللہ سے،مولا نے پوچھا اسے کیا دیا؟معروف نے کہا؛مال سے بھرے 100اونٹ!
مولا نے کہا؛سودا کہاں ہوا؟
معروف نے کہا؛جنگل میں!
مولا نے فرمایا؛تو نے لوٹ لیا غریب کو جنگل میں!ساری زندگی جوتی سر پہ رکھ کے مولا رضا کی دربانی کی معروف نے،
حضرت علامہ آیت اللہ تقی محمد بہجت مرحوم،پورے ایران میں جتنی اس مجتہد کی تقلید تھی اتنی کسی کی نہیں تھی!
استخارے کے بغیر سوال کا جواب نہیں دیتے تھے،ملاقات کاشرف ہوا، 
میں نے کہا
ایک سوال کا جواب پوچھنا تھا
،فرمایا پوچھ!
 میں نے کہا : جب معروف نے ساری زندگی مولا رضا کی جوتی سر پہ رکھ کے دربانی کی، توکیا جب وہ نماز پڑھتا تھا تو جوتی سر پہ ہی ہوتی تھی؟
'جھوٹے پہ اللہ کی لعنت'
استخارہ آیا تو اس مجتہد نے کہا اب میرا جواب دینا واجب ہوگیا ہے،
فرمانے لگے ہاں جب وہ نماز پڑھتا تھا تو مولا کی جوتی اس کے سر پہ ہی ہوتی تھی!
قیام کیا'جوتی سر پہ'
رقوع کے وقت'جوتی سر پہ'
سجدے کے وقت'جوتی سر پہ' 
 تشہد کے دوران 'جوتی سر پہ'

بازاری چٹائی پر بیٹھ کر علی کا نمک کھا کر علی کو بھونکنے والے بازاری مولویو!!
 جس علی کے بیٹے کی جوتی نماز میں آسکتی ہے اس علی کا نام لوں تو نماز باطل۔۔۔۔۔

(شہید علامہ ناصر عباس، ملتان)

Untitled-112.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

Welcome To Shia Forum

At Ajareresalat.net, we have one unifying goal: to seek out the Truth. We welcome individuals from all walks of life and and there exists a diverse mix of cultures and ideologies amongst our members.

Mega Footer

You can configure this content inside your ACP under Customization > Edit > Mega Footer.